Thursday, February 19, 2026

سول ریویژن نمبر 14 آف 2025 کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام

 

 سول ریویژن نمبر 14 آف  2025  

 کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام

 مقدمہ

عبدالرشید وغیرہ بنام محمد صادق (مرحوم) بذریعہ قانونی ورثاء
سول ریویژن نمبر: 14 آف 2025
فیصلہ مورخہ: 21.04.2025
عدالت

حارث علی

 ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بہاولنگر


واضح اعلانِ کامیابی

اس مقدمہ میں جوابدہندگان کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ    

 نے مؤثر دلائل پیش کیے، جس کے نتیجہ میں درخواست گزاران کی سول ریویژن مکمل طور پر خارج کر دی گئی۔

معزز عدالت نے ٹرائل کورٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ نے کوئی غیر قانونی یا بے ضابطگی پر مبنی اقدام نہیں کیا۔

یعنی قانونی طور پر یہ مقدمہ جوابدہندگان کے حق میں فیصلہ ہوا — اور اس کامیابی کا سہرا مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کی پیشہ ورانہ مہارت کو جاتا ہے۔


عدالت کا مؤقف

عدالت نے واضح کیا کہ:

درخواست گزاران نے خود اپنی درخواست میں مدعا علیہان کے طور پر شامل ہونے کی استدعا کی تھی۔

بعد ازاں مؤقف تبدیل کرنا ریکارڈ کے منافی تھا۔

ریویژن میں کوئی قانونی سقم ثابت نہ ہو سکا۔

لہٰذا سول ریویژن کو بے بنیاد قرار دے کر خارج کر دیا گیا۔


نتیجہ

یہ فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مضبوط قانونی مؤقف، درست تیاری اور مدلل بحث عدالت میں کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔

 مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ اس مقدمہ میں کامیاب قرار پائے اور اپنے مؤکلین کے حق میں فیصلہ حاصل کیا۔

 

Read Full Judgement 

 

Wednesday, February 18, 2026

بہاولنگر: کرایہ کے تنازع میں عدالت نے کرایہ دار کی اپیل مسترد کر دی


بہاولنگر: کرایہ کے تنازع میں عدالت نے کرایہ دار کی اپیل مسترد کر دی

مقدمہ: مسٹر صفیہ بی بی بمقابلہ نجام الدین

رینٹ اپیل نمبر: 06/2025
CMS نمبر: 315183025
تاریخ داخلہ: 17 اکتوبر 2025
تاریخ فیصلہ: 16 دسمبر 2025


مقدمے کی تفصیل:

یہ اپیل مسٹر صفیہ بی بی نے دائر کی تھی، جو کہ نجام الدین کی جانب سے کرایہ دار نکالنے کی درخواست کے خلاف تھی۔ پہلے عدالت نے نجام الدین کی درخواست منظور کی تھی اور کرایہ دار کو مکان خالی کرنے کا حکم دیا تھا، جس کے خلاف یہ اپیل دائر کی گئی۔


وکیلوں کا کردار:

اپیل کنندہ کی وکیل:

پیر محمد صابر چشتی، ایڈووکیٹ
عدالت کو بتایا کہ پہلے کا فیصلہ قانون اور حقائق کے برعکس ہے۔
دلائل دیے کہ کرایہ دار مسلسل دو سال سے کرایہ ادا کر رہی ہیں۔
عدالت سے اپیل کی کہ پہلے کے فیصلے اور لاگت کے حکم کو منسوخ کیا جائے۔

مدعا علیہ کے وکیل:

مدثر فاروق وٹّو، ایڈووکیٹ
عدالت کو بتایا کہ پہلے کی عدالت نے تمام شواہد کا صحیح طریقے سے جائزہ لیا۔
دلائل دیے کہ کرایہ دار نے کرایہ ادا نہیں کیا اور عدالت کے فیصلے میں کوئی غلطی یا بے قاعدگی نہیں ہوئی۔
عدالت سے اپیل کی کہ اپیل کو خارج کیا جائے۔

مقدمے کا پس منظر:

نجام الدین نے مارچ 2024 میں اوپر والا حصہ کرایہ پر دیا۔
ماہانہ کرایہ 1000 روپے مقرر تھا، اور 2000 روپے پیشگی ادا کیے گئے۔
اپیل کنندہ نے دعویٰ کیا کہ ماہانہ کرایہ ادا نہیں کیا گیا اور 1،50،000 روپے بھی دئیے گئے تھے، لیکن عدالت میں کوئی رسید یا بینک ٹرانزیکشن نہیں پیش کی گئی۔

عدالت کی رائے:

عدالت نے دیکھا کہ کرایہ دار اور مالک مکان کے درمیان کرایہ داری کا تعلق موجود ہے۔
کرایہ دار نے اقرار کیا کہ وہ کرایہ ادا نہیں کر رہی ہیں۔
اپیل کنندہ کے دعوے کہ انہیں ماہانہ 6000 روپے دینے کے وعدے کے تحت رقم دی گئی تھی، قابل قبول نہیں۔
عدالت نے فیصلہ دیا کہ کرایہ دار کو کرایہ ادا کرنا لازمی ہے، اور اب تک 19،000 روپے بقایہ ہیں۔

عدالت کا فیصلہ:

اپیل مسترد۔
کرایہ دار کو حکم دیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر مکان خالی کرے۔
بقایہ کرایہ ادا کیا جائے۔
دونوں فریقین اپنی قانونی لاگت خود برداشت کریں۔

فیصلہ کنندہ:
حارث علی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، بہاولنگر
تاریخ: 16 دسمبر 2025

Read Full Jdgement  

چھتیس سال پرانا میوٹیشن چیلنج — عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟؟

 

 چھتیس سال پرانا میوٹیشن چیلنج — عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟؟

بہاولنگر کی عدالت میں اہم سول مقدمہ کا فیصلہ

میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کی کامیابی

14 مئی 2025 کو سول جج فرسٹ کلاس بہاولنگر جناب راؤ محمد زبیر صابر کی عدالت نے ایک اہم سول مقدمہ (دعویٰ برائے ڈیکلریشن بمعہ مستقل حکمِ امتناعی) کا فیصلہ سنایا، جس میں مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کی جانب سے میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کامیابی حاصل کی۔


مقدمہ کا پس منظر

یہ مقدمہ جائیداد کی وراثت اور میوٹیشن نمبر 208 اور 209 مؤرخہ 13.08.1987 کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ مدعیان کا مؤقف تھا کہ مذکورہ میوٹیشن فراڈ، جعلسازی اور غلط بیانی کے ذریعے درج کی گئی، لہٰذا اسے منسوخ کیا جائے اور وراثتی حق بحال کیا جائے۔

مدعیان کی طرف سے چوہدری محمد اقبال سیال ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کی جانب سے میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔


عدالتی کارروائی اور نکات

عدالت نے فریقین کے دلائل، گواہوں کے بیانات اور پیش کردہ دستاویزی شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اہم قانونی نکات درج ذیل رہے:

مدعیان 1987 کی میوٹیشن کو تقریباً 36 سال بعد چیلنج کر رہے تھے، جو قانونِ میعاد کے خلاف قرار پایا۔

فراڈ کی تفصیلات قانون کے تقاضوں کے مطابق بیان نہیں کی گئیں۔

سرکاری ریکارڈ (میوٹیشن، جمعبندی، ڈیتھ سرٹیفکیٹ وغیرہ) کو قانوناً درست تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کے خلاف مضبوط ثبوت نہ ہو۔

مدعیان اپنے دعویٰ کے حق میں ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پیش نہ کر سکے۔


عدالت نے کس کا مؤقف درست تسلیم کیا؟

عدالت نے قرار دیا کہ مدعا علیہان کا مؤقف زیادہ مضبوط اور قرینِ قیاس ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے حق میں موجود قانونی قرینہ (Presumption of Truth) کو مدعیان رد نہ کر سکے۔

لہٰذا عدالت نے مدعا علیہان کے مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا۔


حتمی فیصلہ

دعویٰ برائے ڈیکلریشن بمعہ مستقل حکمِ امتناعی مسترد کر دیا گیا۔

اخراجات کے بارے میں کوئی حکم جاری نہ کیا گیا

ڈگری شیٹ تیار کرنے اور فائل کو ریکارڈ روم بھیجنے کا حکم دیا گیا۔


نتیجہ

یہ فیصلہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کے حق میں آیا اور یوں میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ اپنے مؤکلین کی نمائندگی کرتے ہوئے مقدمہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ 

یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط قانونی مؤقف، مستند سرکاری ریکارڈ اور مؤثر دلائل عدالت میں کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔
 Read Full Judgement

 

سول ریویژن نمبر 14 آف 2025 کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام

    سول ریویژن نمبر 14 آف   2025     کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام   مقدمہ عبدالرشید وغیرہ بنام محمد صادق (مرحوم) بذریعہ قانو...