Wednesday, February 18, 2026

چھتیس سال پرانا میوٹیشن چیلنج — عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟؟

 

 چھتیس سال پرانا میوٹیشن چیلنج — عدالت نے کیا فیصلہ دیا؟؟

بہاولنگر کی عدالت میں اہم سول مقدمہ کا فیصلہ

میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کی کامیابی

14 مئی 2025 کو سول جج فرسٹ کلاس بہاولنگر جناب راؤ محمد زبیر صابر کی عدالت نے ایک اہم سول مقدمہ (دعویٰ برائے ڈیکلریشن بمعہ مستقل حکمِ امتناعی) کا فیصلہ سنایا، جس میں مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کی جانب سے میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ پیش ہوئے اور کامیابی حاصل کی۔


مقدمہ کا پس منظر

یہ مقدمہ جائیداد کی وراثت اور میوٹیشن نمبر 208 اور 209 مؤرخہ 13.08.1987 کے خلاف دائر کیا گیا تھا۔ مدعیان کا مؤقف تھا کہ مذکورہ میوٹیشن فراڈ، جعلسازی اور غلط بیانی کے ذریعے درج کی گئی، لہٰذا اسے منسوخ کیا جائے اور وراثتی حق بحال کیا جائے۔

مدعیان کی طرف سے چوہدری محمد اقبال سیال ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کی جانب سے میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔


عدالتی کارروائی اور نکات

عدالت نے فریقین کے دلائل، گواہوں کے بیانات اور پیش کردہ دستاویزی شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اہم قانونی نکات درج ذیل رہے:

مدعیان 1987 کی میوٹیشن کو تقریباً 36 سال بعد چیلنج کر رہے تھے، جو قانونِ میعاد کے خلاف قرار پایا۔

فراڈ کی تفصیلات قانون کے تقاضوں کے مطابق بیان نہیں کی گئیں۔

سرکاری ریکارڈ (میوٹیشن، جمعبندی، ڈیتھ سرٹیفکیٹ وغیرہ) کو قانوناً درست تصور کیا جاتا ہے جب تک اس کے خلاف مضبوط ثبوت نہ ہو۔

مدعیان اپنے دعویٰ کے حق میں ٹھوس اور قابلِ اعتماد شواہد پیش نہ کر سکے۔


عدالت نے کس کا مؤقف درست تسلیم کیا؟

عدالت نے قرار دیا کہ مدعا علیہان کا مؤقف زیادہ مضبوط اور قرینِ قیاس ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے حق میں موجود قانونی قرینہ (Presumption of Truth) کو مدعیان رد نہ کر سکے۔

لہٰذا عدالت نے مدعا علیہان کے مؤقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مدعیان کا دعویٰ خارج کر دیا۔


حتمی فیصلہ

دعویٰ برائے ڈیکلریشن بمعہ مستقل حکمِ امتناعی مسترد کر دیا گیا۔

اخراجات کے بارے میں کوئی حکم جاری نہ کیا گیا

ڈگری شیٹ تیار کرنے اور فائل کو ریکارڈ روم بھیجنے کا حکم دیا گیا۔


نتیجہ

یہ فیصلہ مدعا علیہان نمبر 1 تا 9 کے حق میں آیا اور یوں میاں مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ اپنے مؤکلین کی نمائندگی کرتے ہوئے مقدمہ جیتنے میں کامیاب رہے۔ 

یہ کیس اس بات کی مثال ہے کہ مضبوط قانونی مؤقف، مستند سرکاری ریکارڈ اور مؤثر دلائل عدالت میں کامیابی کی بنیاد بنتے ہیں۔
 Read Full Judgement

 

No comments:

Post a Comment

سول ریویژن نمبر 14 آف 2025 کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام

    سول ریویژن نمبر 14 آف   2025     کامیابی مدثر فاروق وٹو ایڈووکیٹ کے نام   مقدمہ عبدالرشید وغیرہ بنام محمد صادق (مرحوم) بذریعہ قانو...